فهرس الكتاب

الصفحة 535 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: نابینے شخص کا اذان کہنا

535 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ أُمِّمَكْتُومٍ كَانَ مُؤَذِّنًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم ؓ رسول اللہ ﷺ کے مؤذن تھے اور نابینا تھے ۔

نابینے شخص کا اذان دینا یا امامت کا اہل ہونے کی صورت میں امامت کرانا بالکل صحیح اور جائز ہے۔اذان کے بارے میں ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا ہی اس کی رہنمائی کرےگا۔اور اج کل تو ایسی گھڑیاں بھی ایجاد ہوچکی ہیں۔جن سے ایسے لوگوں کو وقت معلوم کرنے میں دقت نہیں ہوتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت