فهرس الكتاب

الصفحة 2638 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: شب خون کا بیان

2638 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ: أَمِتْ أَمِتْ. قَالَ سَلَمَةُ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

جناب ایاس بن سلمہ اپنے والد ( سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو ہمارا امیر بنایا ، پھر ہم مشرکین سے جہاد کے لیے نکلے ۔ ہم نے ان پر شب خون مارا ۔ اس رات ہمارا شعار تھا «أمت أمت» سلمہ کہتے ہیں کہ اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکین کو قتل کیا تھا ۔

حسب ضرورت ومصلحت شب خون مارنے میں کوئی عیب نہیں۔اور نہ اسے معروف معنی میں دھوکا یا بزدلی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت