فهرس الكتاب

الصفحة 903 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: پہلوؤں پر ہاتھ رکھنا اور اقعاء کرنا

903 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ وَكِيعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ صَبِيحٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ

جناب زیاد بن صبیح حنفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر ؓ کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھی ، میں نے اس دوران میں اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں ( کوکھوں ) پر رکھ لیے ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ کیفیت نماز میں صلیب ( «مصلوب» ) سے مشابہت ہے اور رسول اللہ ﷺ اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔

1.ّاثنائےنماز میں کوکھے (یا کولہوں) پرہاتھ رکھنا ناجائزہے-اس کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں-ایک تویہی مشاورتئجو ذکر ہوئی ہے کہ سولی دیے جانے والے کو لکڑی پر اسی انداز میں کھڑا کرتے تھے کہ اس کے ہاتھ اس کے پہلوؤں سے دور ہوتے تھے-دیگر اقوال یہ ہیں-اس شیطان سے مشابہت ہوتی ہے-یا یہودسے مشلبہت ہوتی ہے-یا یہ انداز میں کھڑے ہوتے ہیں وغیرہ (عون المعبود) الغرض وجہ کوئی بھی ہو یہ عمل ممنوع ہے-2.ّاقعاءعلی القدمین''کی وضاحت اس طرح ہے کہ''اقاء ''ایڑیوں پر بی؍ھنے کو کہتے ہیںاور دو سجدوں کےدرمین کبھی کبھاراس طرح بیٹھنا جائزہے-تفصیل کے لیے حدیث.ّ845کے فوائد ملاظہ ہو-

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت