2236 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَعَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ أُعْتِقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ- عَبْدٍ لِآلِ أَبِي أَحْمَدَ-، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهَا: >إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ بریرہ کو آزاد کیا گیا تو وہ مغیث کی زوجیت میں تھی جو کہ آل ابی احمد کا غلام تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو اختیار دے دیا اور فرمایا " اگر وہ تم سے قریب ہو گیا تو تمہارا اختیار باقی نہیں رہے گا ۔ "
یہ روایت ضعیف ہے اس سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتاکہ آزاد ہونے والی لونڈی نے آزاد ہونے کے بعد اپنے خاوند سے تعلق زوجیت قائم کرلیا تو اس کا اختیار ختم ہوجائے گا۔