1672 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اس کو امان دو ۔ اور جو شخص اللہ کے نام سے سوال کرے اس کو دو ۔ اور جو تمہاری دعوت کرے اس کی دعوت قبول کرو ۔ اور جو تمہارے ساتھ احسان کرے اس کا بدلہ دو ۔ اگر بدلہ دینے کے لیے کوئی چیز نہ پاؤ تو اس کے حق میں دعا کرو یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ اس ( کے احسان ) کا بدلہ دے دیا ہے ۔ "
1۔اللہ کے نام کا واسطہ دے کر مانگنا جائز ہے۔2۔ایسے سائل کو دینے کا حکم اس لئے تاکیدی ہے۔کہ اس نے رب تعالیٰ کا عظیم واسطہ پیش کیا ہے۔اور اس نام کی عظمت کا لہاظ کرناچاہیے۔ 3۔محسن کے احسان کا بدلہ دینا بھی لازمی امر اور حسن اخلاق کا حصہ ہے۔ اگر کوئی مال وغیرہ نہ ہوتو محسن کو کثرت سے دُعائے خیر دینی چاہیے۔جیسے کہ جامع ترمذی کی حدیث میں آتا ہے۔ جس شخص پر کوئی احسان کیا گیا اور اس نے جواب میں (جزاک اللہ خیرا) اللہ تمھیں بہترین بدلہ دے کہہ دیا تو اس نے اس کی مدح میں بہت مبالغہ کیا (جامع ترمذی البر والصلۃ حدیث 2035) ایک عظیم دُعا ہے۔بشرط یہ کہ ایمان ویقین سے دی جائے۔