فهرس الكتاب

الصفحة 5210 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: جماعت میں سے ایک آدمی کا جواب دینا بھی کافی ہے

5210 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ يُجْزِئُ عَنْ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنْ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ

امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ان کے شیخ حسن بن علی نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا ، فرمایا کہ ایک جماعت گزر رہی ہو تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کہہ دینا کافی ہے ۔ اور بیٹھے ہوئے ( لوگوں ) میں سے کوئی ایک جواب دیدے تو کافی ہے ۔

بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے (الصحیحۃ'حدیث:1148'1412)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت