فهرس الكتاب

الصفحة 2335 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: جو کوئی شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دے

2335 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال:َ >لَا تُقَدِّمُوا صَوْمَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ, إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَوْمٌ يَصُومُهُ رَجُلٌ, فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الصَّوْمَ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے مت رکھو مگر جو کوئی شخص کسی دن کا روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھ لے ۔ "

(1) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملانے کا مفہوم یہ ہے کہ شعبان میں روزے رکھے حتی کہ رمضان شروع ہو جائے۔ (2) شریعت کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور عادت میں فرق کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ اگر کسی نے یہ عادت بنائی ہو کہ وہ سوموار اور جمعرات کو مسنون روزے رکھتا ہو ی اتفاقا کوئی نذر مان لی یا کوئی قضا کا روزہ باقی ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ رمضان شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھ لے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت