فهرس الكتاب

الصفحة 2336 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: جو کوئی شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دے

2336 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ: >لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا, إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ؓا ، نبی کریم ﷺ کے متعلق بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ سال میں کسی مہینے کے پورے روزے نہ رکھتے تھے مگر شعبان میں ، کہ اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے ۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان بطور مجاز ہے۔ جس کا مطلب کثرت ہے۔ جیسا کہ دیگر احادیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: (كان يصوم شعبان الا قليلا) (صحيح مسلم' الصيام' حديث:1156)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت