فهرس الكتاب

الصفحة 4172 من 5274

کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل

باب: خوشبو واپس کرنا درست نہیں

4172 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلَا يَرُدَّهُ, فَإِنَّهُ طَيِّبُ الرِّيحِ، خَفِيفُ الْمَحْمَلِ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جسے خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے ۔ بلاشبہ اس کی مہک عمدہ ہوتی ہے اور اس میں کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا ۔ "

خوشبو دار پھول یا عطر کوئی بڑا بھاری بوجھ نہیں ہو تا جو ناقابلِ برداشت ہو اور کوئی اتنا بڑا احسان بھی نہیں ہو تا کہ اسکا عوض دینا کچھ مشکل ہو۔ یا عوض نہ دینے سے کوئی گلہ شکوہ کرے تو ایسی چیز کو رد کیو ں کیا جائے۔ (علامہ وحید الزماں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت