382 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا وَكَانَتْ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں میں مسجد میں سویا کرتا تھا ۔ میری بھر پور جوانی کے دن تھے اور ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ۔ کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اور پیشاب بھی کر دیتے تھے مگر وہ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ؓم ) اس پر کوئی پانی نہ چھڑکتے تھے ۔
(1) مسجد عبادت گاہ ہےاس کا مسلمانوں کےرفاہی امور میں استعمال جائز ہے،مگر لازم ہےکہ اس کےآداب کاخاص خیال اور اہتمام کیا جائے۔
(2) جب زمین خشک ہوجائے اور نجاست ظاہر نہ ہوتوزمین پاک شمار ہوتی ہے۔
(3) نوجوانوں کی مسجد میں سونے سےاس وجہ سے روکنا کہ انہیں احتلام ہوجاتاہے، شرعا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔