فهرس الكتاب

الصفحة 2927 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے حصہ پائے گی

2927 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمَرُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَقَالَ فِيهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَعْرَابِ

جناب سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ کہا کرتے تھے دیت کنبے والوں کا حق ہے ( جو باپ کی طرف سے قرابت دار ہوتے ہیں ) اور عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہ پائے گی حتیٰ کہ ضحاک بن سفیان نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے لکھا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے حصہ دلاؤں ۔ چنانچہ سیدنا عمر ؓ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا ۔ احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہمیں یہ حدیث عبدالرزاق نے بواسطہ زہری اور انہوں نے سعید سے روایت کی ہے ۔ اور اس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ضحاک کو دیہاتیوں پر عامل بنایا تھا ۔

مقتول کے سلسلے میں ملنے والی دیت اس کی ملکیت شمار ہوکر اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم ہوگی۔جن میں سے ایک وارث بیوی بھی ہے۔2۔کسی بھی مسلمان کو روا نہیں کہ صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے آئمہ مجتہدین کے فتویٰ ر ائے یا اجتہاد کو ترجیح دے۔3۔اشیم ضبابی کوابن عبد البر نے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں شمار کیا ہے۔ اور ضبابی کے متعلق لکھتے ہیں۔کہ یہ ضباب کی طرف نسبت ہے۔جو کہ کوفہ میں ایک قلعہ ہے۔ (عون المعبود)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت