فهرس الكتاب

الصفحة 2926 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: حلف کا بیان

2926 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا فَقِيلَ لَهُ أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمارے احاطے میں بیٹھ کر مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا۔ان سے کہا گیا: کیا رسول اللہﷺ نے یہ نہیں فرمایا:اسلام میں کوئی حلف نہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ نے ہمارے احاطے میں بیٹھ کر مہاجرین اور انصار کے درمیان حلف قائم کیا تھا۔ انہوں نے اپنی یہ بات دو یا تین بار دوہرائی۔

اہل اسلام وایمان (وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى) کی بنیاد پر جو عہد معاہدہ کر لیں جائز ہے۔ مگر جاہلیت کی طرح معاہدے جو محض عصبیت پر طے ہوتے تھے، ان کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نبیﷺ کے فرمان:اسلام میں حلف نہیں کا مطلب بھی یہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت