فهرس الكتاب

الصفحة 4535 من 5274

کتاب: دیتوں کا بیان

باب: لوہے کے ہتھیار کے علاوہ دوسری طرح سے قصاص لینا

4535 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ

سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی جس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا ۔ تو اس سے پوچھا گیا: تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ کیا فلاں نے ، کیا فلاں نے ؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا ( کہ ہاں ) ۔ وہ یہودی پکڑ لیا گیا تو اس نے اقرار کر لیا ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچلا جائے ۔

مجرم سے قصاص لینے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جس انداز سے اس نے قتل کیا ہو اسی اندازسے اسے قتل کیا جائے جیسے اس واقعہ میں ہے اور عکل اور عرینہ کے لوگوں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا گیا تھا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت