2741 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ح، وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَ:، حَدَّثَنَا مُبَشَّرٌ ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ الْمَعْنَى كُلُّهُمْ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ قِبَلَ نَجْدٍ، وَانْبَعَثَتْ سَرِيَّةٌ مِنَ الْجَيْشِ، فَكَانَ سُهْمَانُ الْجَيْشِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَ أَهْلَ السَّرِيَّةِ بَعِيرًا بَعِيرًا، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ، ثَلَاثَةَ عَشَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں نجد کی طرف روانہ کیا اور اس میں سے ایک دستہ دشمن کے مقابلے میں گیا ۔ چنانچہ لشکر والوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے لیکن اس دستے میں شریک مجاہدوں کو ایک ایک اونٹ مزید دیا گیا ، اس طرح ان کا حصہ تیرہ تیرہ اونٹ ہو گیا ۔
لشکر میں سے کوئی دستہ جب کوئی خاص کاروائی کرے۔تو اس کی مناسبت سے اسے اضافی انعام دینا مستحب ہے۔جب کہ عام غنیمت میں سبھی شریک ہوں گے۔