فهرس الكتاب

الصفحة 2344 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: سحری کو «غداء »( یعنی صبح کا کھانا )کہنا جائز ہے

2344 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ.

سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان میں سحری کے لیے بلایا اور فرمایا " آؤ ! مبارک کھانا «غداء» کھا لو ۔ "

کھانا انسانی فطرت کا ایک لازمہ ہے مگر شریعت کی اتباع میں سحری کا کھانا مبارک کھانا ہوتا ہے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناطق وحی ہیں، اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے، اس لیے اگر کسی کی طبیعت میں سحری کے لیے چاہت نہ بھی ہو تو ایک دو لقمے یا کجھور یا کسی مشروب کے چند گھونٹ ضرور لے لینے چاہئیں تاکہ اس برکت سے حصہ مل جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت