فهرس الكتاب

الصفحة 3095 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: ذمی کافر کی عیادت کرنا

3095 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا ایک لڑکا بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ آپ ﷺ اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے ' اور اس سے فرمایا " اسلام قبول کر لو ۔ " تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جب کہ وہ بھی اس کے سر کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا ۔ تو اس کے باپ نے اس سے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو ۔ چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ پھر نبی کریم ﷺ وہاں سے اٹھے تو فر رہے تھے " حمد اس اﷲ کی جس نے اس کو میرے ذریعے سے آگ سے نجات دی ۔ "

1۔کسی کافر کی عیادت کےلئے جانا جائز ہے۔بشرط یہ ہے کہ وہاں حق شرعی ادا ہو یعنی بالخصوص مرنے والے کو دعوت اسلام دی جائے۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ یہ لڑکا رسول اللہ ﷺ کا خادم بھی تھا۔ (صحیح البخاری المرضی۔باب عبادۃ المشرک حدیث5657) 2۔جس شخص کا خاتمہ اسلام اور ایمان پر ہو وہ نجات پاگیا۔3۔اور اس نجات کا م محور محمدر سول اللہ ﷺ کی رسالت اور دعوت پر ایمان وعمل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت