فهرس الكتاب

الصفحة 2618 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: جاسوس بھیجنے کا بیان

2618 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَعَثَ -يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بُسْبَسَةَ عَيْنًا، يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ.

سیدنا انس ؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ( واقعہ بدر سے پہلے ) بسیسہ کو بطور جاسوس روانہ فرمایا تھا کہ وہ دیکھے کہ ابوسفیان کا قافلہ کس مرحلے میں ہے ؟

مسلمانوں میں ایک دوسرے کی جاسوسی کرنا حرام ہے۔الا یہ کہ امیر المومنین اصلاح احوال کےلئے ان کے بعض امور کی ٹوہ لگائےتو جائز ہے۔تاہم دشمن کے احوال کی خبر لینے کے لئے یہ عمل سیاستًا واجب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت