فهرس الكتاب

الصفحة 3932 من 5274

کتاب: غلاموں کی آزادی سے متعلق احکام و مسائل

باب: کسی کو مشروط طور پر آزاد کرنا

3932 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ وَإِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ

سیدنا سفینہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ ؓا کا غلام تھا ۔ چنانچہ انہوں نے کہا: میں تمہیں اس شرط پر آزاد کرتی ہیں کہ تم زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتے رہو گے ۔ میں نے کہا: آپ اگر مجھ سے یہ شرط نہ بھی کریں تو میں جیتے جی رسول اللہ ﷺ سے جدا نہ ہوں گا ۔ چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ سے یہ شرط کر لی ۔

غلام کو قابل عمل عمدہ شرط پر آزاد کرنا جائز ہے۔اور کیاعمدہ شرط تھی جوالمومنین سیدہ ام سلمہ نے کی اور حضرت سفینہ قبول کیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت