فهرس الكتاب

الصفحة 694 من 5274

کتاب: سترے کے احکام ومسائل

باب: باتوں میں مشغول یا سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا

694 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَقَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ

جناب محمد بن کعب قرظی نے بیان کیا کہ میں نے ان سے یعنی عمر بن عبدالعزیز سے کہا کہ مجھ سے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " سونے والے کے پیچھے ( کھڑے ہو کر ) نماز پڑھو ، نہ باتوں میں مشغول شخص کے پیچھے ۔ "

صحیح احادیث سےثابت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے او ر (بعض اوقات) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کےسامنے سوئی ہوتی تھیں ۔ ( دیکھیے صحیح بخار ی ، حدیث: 382 وصحیح مسلم ،حدیث: 512) معلوم ہوا کہ یہ جائز ہےاو ر کہیں لوگ باتوں میں مشغول ہوں اور قبلہ رخ ہوں توبظاہر نمازی کو اس سےتشویش ہو سکتی ہےاور اس کے خشوع میں خلل آئے گا ۔لہذا ایسی صورتوں میں بھی احتیاط کرنا اچھا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت