فهرس الكتاب

الصفحة 267 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: شوہر اپنی اہلیہ سے(ایام حیض میں)جماع کے علاوہ سب کچھ کرسکتا ہے

267 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: >يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِلَى أَنْصَافِ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ تَحْتَجِزُ بِهِ.

ام المؤمنین سیدہ میمونہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی ایک کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے جبکہ وہ حیض سے ہوتی اور اس پر آدھی رانوں تک یا گھٹنوں تک کپڑا ہوتا اور وہ اس کپڑے سے اپنے ( زیریں ) جسم ڈھانپے ہوتی تھی ۔

زوجین کے یہ مسائل کسی عام عالم کے لیے اس انداز میں بیان کرنا بہت مشکل ہے مگر چونکہ یہ دین طہارت اور اللہ کی حدود کے مسائل ہیں اسی لیے ازواج مطہرات نے بھی بیان فرمائے ہیں ورنہ ان کی حیاوشرم بے مثل و بےمثال تھی (رضی اللہ عنہن) اور آپ ﷺ کی کثرت ازدواج کی حکمت بھی یہی تھی کہ زوجین کے مابین کے مسائل شرعی لحاظ سے امت کے سامنے آجائیں۔

مسئلہ: ایام حیض میں بوس وکنار یقینًا جائز ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایسے جوڑے کو اپنے اوپر کس حد تک ضبط ہے ۔ اگر اندیشہ ہو کہ ضبط قائم نہ رہے گا تو از حد احتیاط کرنی چاہیے کہ کہیں حرام میں واقع نہ ہو جائیں ۔ (نیز دیکھیے حدیث: 258)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت