فهرس الكتاب

الصفحة 1193 من 5274

کتاب: نماز استسقا کے احکام و مسائل

باب: ان حضرات کی دلیل جو کہتے ہیں کہ( کسوف میں معروف نماز کی طرح )دو رکعتیں پڑھے

1193 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَيَسْأَلُ عَنْهَا، حَتَّى انْجَلَتْ.

سیدنا نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں سورج کو گہن لگا تو آپ ﷺ دو دو رکعتیں پڑھنے لگے اور سورج کے متعلق بھی دریافت فرماتے جاتے تھے حتیٰ کہ وہ صاف ہو گیا ۔

صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اس نماز میں رکعتیں تو دو ہی ہیں۔لیکن ہر رکعت میں کم از کم دو رکوع اور خوب لمبی قراءت ہونی چاہیے۔ (دیکھئے گزشتہ احادیث کسوف)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت