فهرس الكتاب

الصفحة 2308 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: ام ولد کی عدت کا بیان

2308 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَا تُلَبِّسُوا عَلَيْنَا سُنَّةً -قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-, >عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ. -يَعْنِي: أُمَّ الْوَلَدِ-.

سیدنا عمرو بن العاص ؓ نے فرمایا کہ ہم پر آپ ﷺ کی سنت کو خلط ملط مت کرو ۔ ابن مثنی نے کہا: ہمارے نبی کریم ﷺ کی سنت کو ۔ ( کہ ) جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۔ یعنی ام ولد ( ان کی مراد یہ تھی کہ عورت خواہ آزاد ہو یا ام ولد سب کے لیے حکم ایک ہی ہے ) ۔

1:وہ لونڈی جس سے اس کے مالک کی اولادبھی ہو ،ام ولد کہلاتی ہے ۔

2: ام ولد کس کا آقافوت ہو جائے اس کی عدت میں اختلاف ہے ۔ بعض کھے نزدیک اس کی عدت تین حیض اور بعض کے نزدیک ایک حیض ہے ۔ لیکن جن کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے ،ان کے نزدیک اس کی عدت بھی چاہ مہینے دس کی ہی ہے ۔واللہ اعلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت