1387 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا جبکہ میں سن رہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا " یہ سارے رمضان میں ہوتی ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں اس کو سفیان اور شعبہ نے ابواسحاق سے ، ابن عمر سے موقوفًا روایت کیا ہے اور نبی کریم ﷺ تک مرفوع بیان نہیں کیا ہے ۔
لیلۃ القدر کے رمضان المبارک میں ہونے میں تو کوئی اختلاف نہیں۔علاوہ ازیں دلائل کی رو سے راحج بات یہ ہے کہ یہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے۔اور ان میں سے بھی بعض کے نذدیک 27 ویں شب کا امکان زیادہ ہے۔واللہ اعلم۔باقی رہی یہ روایت جس میں سارے رمضان میں ہونے کی صراحت ہے۔ا س کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے۔جیسا کہ خود امام ابودائود ؒ نے بھی وضاحت کی ہے۔شیخ البانی ؒ نے بھی اسی موئقف کو تسلیم کیا ہے۔اسی طرح حدیث 1384 بھی ضعیف ہے۔جس میں سترھویں رات میں بھی ہونے کاامکان موجود ہے۔