فهرس الكتاب

الصفحة 2563 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: جانوروں کو نشان لگانا

2563 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَال:َ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي حِينَ وُلِدَ لِيُحَنِّكَهُ، فَإِذَا هُوَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا -أَحْسَبُهُ قَالَ: -فِي آذَانِهَا.

سیدنا انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ میرے بھائی ( عبداللہ بن ابی طلحہ ) کی ولادت ہوئی تو میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ اسے گھٹی دیں ۔ میں نے آپ ﷺ کو بکریوں کے باڑے میں پایا ، آپ ﷺ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے ۔ ( شعبہ نے ) کہا میرا خیال ہے ، شیخ نے بیان کیا: آپ ﷺ ان کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے ۔

پہچان کے لئے جانوروں کو نشان لگانا جائز ہے۔اس مقصد کے لئے لوہا گرم کر کے ان کے جسم کو داغا جاتا تھا۔ لیکن اس پر داغ لگانا اور اسے مارنا جائز نہیں البتہ کان پر جائز ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کان چہرے کا حصہ نہیں ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت