1760 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ فَقَالَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی قربانی کا اونٹ ہانکے جا رہا تھا ( اور خود پیدل چل رہا تھا ) تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ " اس نے کہا: یہ قربانی کے لیے ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اس پر سوار ہو جاؤ ، تم پر افسوس ! " آپ نے یہ ( افسوس کا لفظ ) دوسری یا تیسری بار میں فرمایا ۔
تم پر افسوس کلمہ تو بیخ کہنے کی وجہ اس شخص کی کم فہمی تھی کہ نبی ﷺ دیکھ رہے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ یہ قربانی کا جانور ہے پھر بھی وہ انکار اور اصرار کرتا رہا ۔ اسے چاہیے تھا کہ ارشاد نبوی کی بلا چون و چرا تعمیل کرتا ۔