1759 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَلَمْ يَحْفَظْ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا وَلَا حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا قَالَا قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدْيِ فَأَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا بِيَدِي مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ
ام المؤمنین ( سیدہ عائشہ ؓا ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدی بھجوائی اور میں نے اون سے جو ہمارے ہاں تھی ، اس کے قلاووں کی رسیاں بٹیں ، پھر آپ ہمارے ہاں اسی طرح حلال ہی رہے ۔ اپنے اہل کے پاس آتے جیسے کہ کوئی عام آدمی آتا ہے ۔
در اصل ان احادیث میں اصحاب رائے کے اس قول کا جواب ہے کہ جب انسان ہدی بھیج دےاور اسے قلادہ بھی پہنا دے تواس پر احرام واجب ہوجاتاہے مگر حق یہی ہے جو ذکر ہوا کہ جب تک کوئی شخص عملًا احرام نہ باندھے محرم نہیں ہوتا اور نہ اس طرح احرام ہی واجب ہوتاہے ۔