4466 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا.
سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا ۔ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کا اقرار کیا ۔ اس نے آپ ﷺ کے سامنے اس عورت کا نام بھی لیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو عورت نے زنا سے انکار کیا ۔ تو آپ ﷺ نے اس شخص کو حد کے کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا ۔
امام مالک اور امام شافعی رحمتہ اللہ اس حدیث کی روشنی میں کسی معین عورت سے زنا کا اقرار کرنےوالے کو حد لگانے کا حکم دیتے ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ حد قذف کے قائل ہیں۔