فهرس الكتاب

الصفحة 5238 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: بالا خانہ بنانا

5238 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ الطَّعَامَ فَقَالَ يَا عُمَرُ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ فَارْتَقَى بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ فَأَخَذَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ

سیدنا دکین بن سعید مزنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ ﷺ سے غلے کا مطالبہ کیا ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا " عمر ! جاؤ اور ان کو دو ۔ " چنانچہ وہ ہمیں لے کر ایک بالا خانے پر چڑھے اور اپنے حجرے سے چابی لے کر اس کو کھولا ۔

فی الواقع ضرورت ہو تو مکان کے اوپر مکان بنانا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت