فهرس الكتاب

الصفحة 677 من 5274

کتاب: صف بندی کے احکام ومسائل

باب: بچے صف میں کہاں کھڑے ہوں؟

677 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ الرَّقَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمْ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَذَكَرَ صَلَاتَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا صَلَاةُ قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ صَلَاةُ أُمَّتِي

جناب عبدالرحمٰن بن غنم نے کہا کہ سیدنا ابومالک اشعری ؓ نے کہا کیا میں تمہارے سامنے نبی کریم ﷺ کی نماز نہ بیان کروں ؟ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ آپ نے اقامت کہی ، پھر مردوں کی صف بنائی اور پھر بچوں کی صف ان کے پیچھے بنائی اور انہیں نماز پڑھائی ۔ اور ابو مالک ؓ نے آپ کی پوری نماز بیان کی ، پھر فرمایا: ایسے ہی ہے نماز ! ، عبدالاعلیٰ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا تھا " ایسے ہی ہے نماز میری امت کی ۔ ''

حق یہ ہےکہ جماعت میں امام کےقریب اور پہلی صف میں صاحب علم اور بالغ افراد کھڑے ہوں ،بعد ازاں بچوں کامقام ہے۔ مگر ان کی صف علیحدہ ہو، ا س کے لیے کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔نمازی کم ہوں توبچے بھی پہلی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں جیسے کہ حضر ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہےبیان کرتےہیں:'' میں صف میں داخل ہوگیا اورکسی نےمجھ پر انکارنہیں کیا ۔،، ( صحیح بخاری ، حدیث: 493 وصحیح مسلم ،حدیث: 504 ) اور یہ اس وقت قریب البلوغ تھے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت