فهرس الكتاب

الصفحة 3211 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: میت کو کیسے(کس طرف سے) قبر میں اُتارا جائے؟

3211 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ أَوْصَى الْحَارِثُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْ الْقَبْرِ وَقَالَ هَذَا مِنْ السُّنَّةِ

جناب ابواسحٰق ( سبیعی ) سے روایت ہے کہ حارث اعور نے وصیت کی کہ سیدنا عبداللہ بن یزید ( عبداللہ بن یزید حطمی ؓ ) ان کی نماز جنازہ پڑھائیں ۔ چنانچہ انہوں نے جنازہ پڑھایا ' پھر انہیں قبر کی پائینتی کی طرف سے قبر میں اتارا اور فرمایا یہ سنت ہے ۔

صحابی کا کسی عمل کو سنت کہنے سے رسول اللہ ﷺ کی سنت مراد ہوتی ہے اور اسے اصطلاحا مرفوع حکمی کہتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت