فهرس الكتاب

الصفحة 3214 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: کسی کا مشرک رشتہ دار فوت ہو جائے تو

3214 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي

سیدنا علی ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ آپ ﷺ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " جاؤ اور اپنے والد کو زمین میں دبا آؤ ' پھر کوئی کام نہ کرنا حتیٰ کہ میرے پاس آ جانا ۔ " چنانچہ میں گیا اور اسے زمین میں دبا آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے غسل کیا اور آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی ۔

1۔یہ واضح دلیل ہے۔کہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب کی وفات اسلام پرنہیں ہوئی۔بلکہ کفر پرہوئی ہے۔اسلئے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی گئی۔نبی کریم ﷺ نے نماز جنازہ پڑھی۔نہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور نہ کسی اور نے2۔ابوطالب چونکہ نعمت اسلام سے انکاری رہے اور شرک ہی پر مرے۔اس لئے ایسے آدمی کی تکفین وتدفین کے لئے کوئی شرعی آداب نہیں حتیٰ کہ لفظ دفن بھی استعمال نہیں کیا گیا۔3۔مشرک رشتہ دار کوگڑھے میں دبادینا ہی کافی ہے۔4۔ایسی صورت میں بعد از دفن غسل کرنا مسنون ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت