فهرس الكتاب

الصفحة 2407 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: سفر میں افطار کو ترجیح دینا

2407 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُظَلَّلُ عَلَيْهِ، وَالزِّحَامُ عَلَيْهِ فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا ایک شخص کو سایہ کیا جا رہا ہے اور لوگ اس پر ازدحام کیے ہوئے ہیں ۔ ( روزے اور گرمی کے باعث وہ غش کھا گیا تھا ) تو آپ ﷺ نے فرمایا " سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے ۔ "

جو شخص سفر میں روزے کی مشقت کا متحمل نہ ہو اور اسے روزے سے اذیت ہوتی ہو، تو اس کے لیے افطار کرنا واجح اور افضل ہے۔ ورنہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت