فهرس الكتاب

الصفحة 2453 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: مہینے میں کسی بھی وقت روزہ رکھ لینے کی رخصت ہے

2453 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟! قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ.

معاذہ ( العدویہ ) کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھا کیا رسول اﷲ ﷺ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! میں نے کہا: مہینے کی کن تاریخوں یا دنوں میں روزے رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ تاریخوں یا دنوں کی پروا نہ کرتے تھے ۔ ( کوئی خاص ایام مقرر نہ تھے جب چاہتے روزہ رکھ لیا کرتے ۔ )

گزشتہ ابواب میں اکیلے جمعے یا ہفتے کے دن کی تخصیص کی ممانعت کا بیان گزر چکا ہے، لہذا ان کا خیال رکھنا ہو گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت