1068 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال:َ إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي الْإِسْلَامِ -بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ- لَجُمُعَةٌ جُمِّعَتْ بِجَوْثَاءَ. -قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْبَحْرَيْنِ-.
قَالَ عُثْمَانُ: قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى عَبْدِ الْقَيْسِ.
سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلے جہاں جمعہ قائم کیا گیا وہ بحرین کی ایک بستی جواثاء تھی ۔ ( استاد ) عثمان بن ابی شیبہ نے وضاحت کی کہ یہ عبدالقیس کی بستیوں میں سے تھی ۔
ظاہر ے کہ یہ عمل صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہی سے شروع کیا تھا وہ لوگ عبادات کے معاملے میں بہت ہی محتاط ہوا کرتے تھے۔اور وہ زمانہ نزول وحی کا تھا۔اگر یہ عمل ناجائز ہوتا تو یقینًاوحی کے زریعے سے کوئی ہدایت نازل کردی جاتی۔جوا ثاء کی مسجد کے آثا ر بھی موجود ہیں۔چھوٹی سی جگہ میں ہے اور صرف دو صفوں کادالان ہے۔