فهرس الكتاب

الصفحة 1069 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: بستیوں میں جمعہ قائم کرنا

1069 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ -وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ-، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ, تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ! قَالَ: لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ -يُقَالُ لَهُ: نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ-، قُلْتُ: كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ .

جناب عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک یہ اپنے والد کے نابینا ہونے کے بعد ان کے قائد تھے ۔ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جمعہ کے روز جب وہ جمعےکی اذان سنتے تو اسعدبن زرارہ رضی اللہ کے لیےرحمت کی دعا کرتے-میں نے ان سےکہا.ّآپ جب بھی اذان سنتے ہیں؟انہوں نے کہا.ّاس لیےکہ حرہ بنی بیاضہ میں''ھرمالنبیت''کے اندر انہوں نے ہی سب سےپہلےہمیں جمعہ پڑھایا تھا'ایک نقیع میں جسے''نقیع الخضمات''کہا جاتا تھا- (یعنی نشیبی جگہ جہاں پانی جمع ہو جاتا تھا) میں نےان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟انہوں نے کہا.ّچالیس افراد-

بنو بیاضہ انصار کی ایک شاخ ہے۔حرہ ایسی سنگلاخ زمین کو کہتے ہیں جس میں سیاہ پتھر ہوں۔یہ بستی مدینے میں ایک میل کے فاصلے پرتھی۔2۔ان حضرات کا چالیس کی تعداد میں ہونا ایک اتفاقی عدد اور خبر ہے ورنہ صحت جمعہ کے لئے افراد کی تعداد متعین ہونے کی بابت کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔اگر یہ استدلال تسلیم کرلیا جائے۔تو رسول للہ ﷺکی دیگر نمازوں کی جماعت کے اثبات کے لئے بھی افراد کی تعداد کا تعین اور اس کی دلیل طلب کرنی پڑےگی۔ تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (السبل الجرار 297/1)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت