فهرس الكتاب

الصفحة 674 من 5274

کتاب: صف بندی کے احکام ومسائل

باب: امام کے قریب کون کھڑا ہو اور پیچھے رہنے کی کراہت

674 حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

سیدنا ابومسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا '' چاہیے کہ تمہارے اہل عقل و دانش میرے قریب کھڑے ہوا کریں ۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں ۔ ان کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں ۔ ''

رسول اللہ ﷺ نےصحابہ کرام میں اہل و علم و فضل کواپنے قریب کھڑے ہونے کاحکم دیا تاکہ آپ کی نماز کابغور مشاہدہ کرلیں اور ادب کا تقاضا بھی پورا ہو۔چنانچہ امت میں بھی یہی مطلوب ہےتاکہ یہ لوگ اما م کواس کی خطاوسہو پر متنبہ کرسکیں اوراگر ضرورت پیش آئے تووہ کسی کواپنا نائب بنا سکے اس سے بالضرورت یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم وفضل کر بروقت حاضرہوکر امام کےقریب جگہ لینی چاہیے تاکہ عملا ان کااہل علم وفضل ہونا ثابت ہوسکے ۔اگر یہ صف اول سےپیچھے رہتے ہیں توان کا '' اہل علم وفضل ،، ہونا محل نظر ہوگا جیسے کہ بالعموم مشاہدہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت