فهرس الكتاب

الصفحة 1050 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: جمعے کی فضیلت کا بیان

1050 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ, غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا.

سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے سنے اور خاموش رہے تو اس کے جمعے سے جمعے تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور جو ( خطبے کے دوران میں ) کنکریوں سے کھیلا اس نے لغو کام کیا ۔ "

اچھے وضو سے مراد سنت کے مطابق کامل وضو ہے۔جس میں کوئی کمی رکھی گئی ہو نہ پانی کا اسراف ہو۔2۔اس بخشش میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ کی تصدیق ہے کہ

ـ (مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) (الانعام۔160) جوکوئی نیکی کرے اس کے لئے اس کا دس گنا (اجر ) ہے۔ 3۔یہ حدیث خطبہ جمعہ خاموشی اور غور سے سننے پردلالت کرتی ہے اور اسی مسنون انداز کے اختیار کرنے پر اتنے بڑے اجر وثواب کی بشارت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت