1049 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ الْجُمُعَةِ- يَعْنِي: السَّاعَةَ-؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ. قَالَ أَبو دَاود: يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ.
جناب ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد سے جمعہ کے بارے میں کچھ سنا ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث روایت کرتے تھے یعنی قبولیت کی گھڑی کون سی ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ! میں نے ان کو سنا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فرماتے تھے " یہ گھڑی امام کے ( منبر پر ) بیٹھ جانے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک کے مابین ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: یعنی منبر پر ( بیٹھ جانے سے ) ۔
مختلف روایات میں جمع وتطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ساعت مختلف اوقات میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔