فهرس الكتاب

الصفحة 2328 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: استقبال رمضان کا مسئلہ

2328 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: هَلْ صُمْتَ مِنْ شَهْرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟ ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا. وَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَوْمَيْنِ.

سیدنا عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا " کیا تو نے شعبان کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے ؟ " اس نے کہا: نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " جب ( رمضان کے ) روزے پورے کر لو تو ایک دن روزہ رکھ لینا ۔ " ( ثابت یا سعید جریری دونوں میں سے کسی ) ایک نے بیان کیا کہ " دو دن ۔ "

(1) یہ حدیث بظاہر گزشتہ حدیث سے متعارض ہے جس میں ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ایک دو دن کے روزے مت رکھو۔ مگر ان میں جمع کی صورت یہ ہے کہ یہ رخصت اور تاکید اس شخص کے لیے ہے جس نے کسی روزے کی نذر مانی ہو یا وہ پہلے سے خاص دن کے روزے رکھنے کا عادی ہو تو اسے چاہیے کہ حسب معمول اپنے روزے رکھے۔ مگر کوئی سابقہ عادت یا نذر کے بغیر بطور نفل کے استقبالی روزہ رکھنا چاہیے تو اجازت نہیں ہے۔ (2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کو رمضان کے بعد ایک یا دو روزے رکھنے کی تاکید فرمائی، وہ شخص مہینے کے آخر میں روزے رکھا کرتا تھا، لیکن اس نے شعبان کے آخر میں اس لیے روزے چھوڑ دیے تھے کہ کہیں استقبالِ رمضان کے ذیل میں نہ آ جائیں جو ممنوع ہیں۔ (3) لفظ (سَرَر) کے مختلف معانی مندرجہ ذیل روایت کے بعد مذکور ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت