فهرس الكتاب

الصفحة 196 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: دودھ پی کروضو کرنے کا مسئلہ

196 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ( ایک بار ) دودھ نوش فرمایا ، پھر پانی طلب کیا اور کلی کی اور فرمایا " اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔ "

اس قسم کےماکولات ومشروبات سےجن میں چکنائی ہو'کلی کرلینااولی وافضل ہےتاکہ نمازکےدوران میں منہ خوب صاف رہے۔ آنےوالی حدیث میں اس کی رخصت کابیان ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت