2432 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ- أَوْ سُئِلَ- النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ، وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ. قَالَ أَبو دَاود: وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ، وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
عبیداللہ بن مسلم قرشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ صیام الدھر ( ہمیشہ روزے رکھنے ) کے متعلق میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا یا کسی اور نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے ، رمضان میں روزے رکھو اور اس کے ساتھ والے مہینے میں ( شوال میں ) اور ہر بدھ اور جمعرات کو ( بھی ) تو اس طرح تم زمانہ بھر روزے رکھنے والے ہو گے ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا ( راوی حدیث عبیداللہ بن مسلم کے نام میں ) زید بن حباب عکلی نے عبیداللہ بن موسیٰ کی تائید کی ہے اور ابونعیم نے مخالفت کی ہے ۔ ( بعض مسلم بن عبیداللہ کہتے ہیں اور کچھ نے مسلم بن عبداللہ کہا ہے ۔ )