284 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا، وَأُهْرِيقَتْ دَمًا؟ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا, فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ، فَلْتَعْتَدَّ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ أَوْ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّ.
بہیہ سے روایت ہے ، کہا کہ میں نے ایک عورت کو سنا جو سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھ رہی تھی کہ جس عورت کا نظام حیض خراب ہو گیا ہو اور اسے بہت زیادہ خون آتا ہو ( تو وہ کیا کرے ؟ ) تو ( انہوں نے کہا ) مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ میں اسے کہوں کہ اتنے دن انتظار کرے جتنے کہ ہر مہینے اسے حیض آتا تھا جب کہ اس کا حیض صحیح تھا تو اس قدر ایام شمار کرے اور ان میں نماز چھوڑے رہے ، پھر غسل کرے ۔ کپڑے سے لنگوٹ باندھے اور نماز پڑھے ۔
یہ روایت سندًا ضعیف ہے ، لیکن مسئلہ صحیح ہے۔