فهرس الكتاب

الصفحة 1079 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: جمعہ کے روز نماز سے پہلے حلقہ بنا کے بیٹھنا منع ہے

1079 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ، وَنَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

عمرو بن شعیب اپنے والد ( شعیب ) سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خرید و فروخت سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ گمشدہ چیز کا اس میں اعلان کیا جائے یا شعر پڑھے جائیں ۔ اور اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ جمعہ کے روز نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھا جائے ۔

اس حلقہ میں عام دنیاوی گفتگو ہو یا علمی درس وتدریس سب ہی ممنوع ہیں۔درس وتدریس اگرچہ شرعا مستحب عمل ہے مگر جمعہ کے روز نماز سے پہلے صحیح نہیں۔اس کی بجائے نماز اور اذکار مسنونہ میں مشغول ہوناچاہیے۔اس لئے مسنون خطبہ سے پہلے لوگوں کو کس حلقے میں جمع کرنا خلاف سنت ہے۔کجا یہ کہ خطیب ہی مسنون خطبے سے پہلے منبر پر بیٹھ کر بیان یا تقریر کے نام سے وعظ شروع کردے۔ یہ کسی طرح بھی جائز نہ ہوگا۔اس طرح عدد کے لحاظ سے بھی یہ تین خطبے ہو جائیں گے، حالانکہ سنت یہ ہے کہ خطبے دو ہی ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت