912 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَهَذَا حَدِيثُهُ وَهُوَ أَتَمُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ عُثْمَانُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِيهِ نَاسًا يُصَلُّونَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ يَشْخَصُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ مُسَدَّدٌ فِي الصَّلَاةِ أَوْلَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبْصَارُهُمْ
سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور دیکھا کہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا " یا تو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جائیں یا ان کی نظریں ان کی طرف واپس نہیں لوٹیں گی ۔ "
نماز کے دوران میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا جائز ہے۔جیسے کہ قنوت میں اٹھائے جاتے ہیں۔اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اللہ کی حمد کے لئے اٹھائے تھے۔ (دیکھئے حدیث ۔940۔941) لیکن نظریں آسمان کی طرف اٹھانا صحیح نہیں۔اس حدیث میں انکار نظریں اٹھانے پر ہے۔ نہ کہ ہاتھ اٹھانے پر۔