2531 حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهِّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ، وَنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، لِيَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى.
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہرسول اللہ ﷺ ( میری والدہ ) ام سلیم ؓا اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں ساتھ لے جایا کرتے تھے تاکہ وہ پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں ۔
جہاد میں عورتوں سے مجاہدین کی خدمت کے کام لئے جاسکتے ہیں۔یہ امور باحجاب ہوکر ادا کیے جاسکتے ہیں۔لہذا یہ خدمات لینے کے لئے خواتین کی تعلیم وتربیت اور مشق بھی ضروری ہے۔شرعی تعلیمات کی ر وشنی میں اجنبی مردوں اور عورتوں کو بے حجاب کھلے اختلاط کی قطعًا اجازت نہیں دی جاسکتی۔بعض لوگ عہد نبوی ﷺ کے اس قسم کے بعض اکا دکا واقعات سے یہ کلیہ اور اصول اخذکرتے ہیں۔کہ مردو عورت کے درمیان کسی بھی معاملے میں فرق وامتیاز نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لینا چاہیے۔لیکن ظاہر بات ہے کہ ان لوگوں کا یہ دعویٰ بھی یکسر غلط ہے۔اور استدلال بھی بے بنیاد بھلا چند عمر رسیدہ خواتین کو زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے اور ان کو پانی پلانے جیسی معمولی خدمات کےلئے ان کو ساتھ لے جانے سے مردوزن کی مغربی مساوات اور ہر معاملے میں دوش بدوش کا اثبات کس طرح ممکن ہے؟