فهرس الكتاب

الصفحة 5274 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: آدمی کا زمانے کو گالی دینا

5274 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ وَابْنُ السَّرْحِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مَكَانَ سَعِيدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ آدم کا بیٹا مجھے دکھ دیتا ہے ، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے ۔ حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں ، معاملہ میرے ہی ہاتھ میں ہے ، رات اور دن کو میں ہی پھیرتا ہوں ۔ " ابن سرح نے سند میں سعید کی بجائے «عن ابن المسيب» کہا ( اور وہ ایک ہی شخصیت ہے ۔ یعنی سعید بن مسیب ) ۔

1۔دور یا زمانے کوبر ابھلا کہنا جائز ہے دور یا زمانہ تو ہمیشہ سے ایک ہی ہے البتہ لوگ اپنی بد اعمالیوں کو بھول کر زمانے کی طرف نسبت کرنے لگتے ہیں ۔

2:چونکہ اللہ عزوجل زمانے کا خالق اور اس میں تغیروتبدل کرنے والا ہے اس نسبت سے اس نے اپنے آپ کو دھر سے تعبیر فرمایا ہے اس سبب کے باوجود یہ کلمہ اللہ کے اسما ءیا صفات میں سے نہیں ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت