فهرس الكتاب

الصفحة 2925 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: حلف کا بیان

2925 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً

سیدنا جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اسلام میں کوئی ( نیا ) حلف نہیں ہے اور قیل از اسلام ( ایام جاہلیت میں ) جو عہد معاہد ے ہو چکے ان کو اسلام نے اور مضبوط کیا ہے ۔ "

اسلام نے اپنے معتقدین کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایاہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ) (الحجرات ۔10) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ چنانچہ واجب ہے کہ یہ ایک جان اور ایک جسم بن کر رہیں۔انہیں اب کوئی ضرورت نہیں کہ قبل از اسلام کے انداز میں مصنوعی معاہدے کرتے پھریں۔بلکہ یہ چیز ان کے عقیدے اور عمل کا بنیادی عنصر ہے۔بہرحال جو معاہدات اس سے پہلے ہوچکے ہیں۔اسلام انہیں خیر وصلاح کی بنیاد پراور مظبوط بناتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت