1028 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، وَأَكْبَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ، تَشَهَّدْتَ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا ثُمَّ تُسَلِّمُ . قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ خُصَيْفٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَوَافَقَ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ وَإِسْرَائِيلُ وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلَامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.
ابوعبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سے ' وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " جب تم نماز میں ہو اور تین یا چار رکعات میں شک ہو جائے اور تمہارا غالب گمان چار کا ہو تو تشہد پڑھو پھر دو سجدے کرو جبکہ تم بیٹھے ہوئے ہو ' سلام سے پہلے ' پھر تشہد پڑھو پھر سلام پھیرو ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس روایت کو عبدالواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے مگر اسے مرفوع بیان نہیں کیا ۔ سفیان ' شریک اور اسرائیل نے بھی عبدالواحد کی موافقت کی ہے ۔ اور متن حدیث کے الفاظ میں اختلاف ہے ۔ اور ان لوگوں نے اسے مسند ( مرفوع ) بیان نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت ضعیف ہے۔اس لئے ظن غالب کی بجائے یقین ہی کی بنیاد پر نماز کی تکمیل کیجائے گی۔جیسا کہ مذکورہ باب کی احادیث سے واضح ہے۔نیز سہو کے دو سجدوں کے بعد تشہد پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔