1160 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ح، وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الْقَرَوِيِّينَ وَسَمَّاهُ الرَّبِيعُ فِي حَدِيثِهِ عِيسَى بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ سَمِعَ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِد.
ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں فرویوں میں سے ایک آدمی نے بیان کیا ، ربیع نے اس کا نام عیسیٰ بن عبدالاعلیٰ بن ابی فروہ لیا ہے ، کہ انہوں نے ابویحییٰ عبیداللہ تیمی کو سنا ، وہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے بیان کرتے تھے کہ ( ایک دفعہ ) عید کے روز بارش ہو گئی ، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں مسجد ہی میں نماز عید پڑھائی ۔
یہ حدیث معنا صحیح ہے۔یعنی مسئلہ اس طرح ہے کہ عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے۔تاہم عذر ہو تو مسجد میں بھی جائز ہے۔