فهرس الكتاب

الصفحة 1537 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: انسان کو اگر کسی سے کوئی خوف ہو تو کون سی دعا کرے

1537 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ

سیدنا ابوموسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو جب کسی قوم سے کوئی اندیشہ ہوتا تو اس طرح دعا کرتے «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ، ونعوذ بك من شرورهم» " اے اللہ ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں ۔ "

دشمنوں اور بد طینت لوگوں کے شرور سے بچنے کےلئے مشروع مادی اسباب اختیار کرنا بھی توکل کا لازمی حصہ ہے۔اور اللہ کی رحمت کا سائل رہنا مسلمان کا فریضہ اور اس کا شعار ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت